عمران اشرف اپنی بہترین اداکاری سے اپنا آپ اداکار کے طور پر تو
منوا ہی چکے ہیں لیکن اب ایک لکھاری کے طور پر کیا وہ اپنا آپ منوانے میں کامیاب
ہوئے ہیں؟
اس بات کا جواب آپ کو مشک ڈرامہ دیکھ کر مل گیا ہو گا۔ تعبیر کے بعد
مشک ان کا لکھا گیا دوسرا ڈرامہ ہے اور مشک نے آغاز سے ہی دیکھنے والوں کو سحر
زدہ کر دیا ہے۔ عمران اشرف نہ صرف بہترین اداکار بلکہ ایک منجھے ہوئے لکھاری
بھی ثابت ہوئے ہیں۔ عمران اشرف کے لکھنے کا انداز ایسا پختہ اور جاندار ہے
کہ بندہ داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔
مشک ڈرامہ اپنے کرداروں کی کہانی کو پرت در پرت ایسے کھول رہا ہے کہ
بندہ حیران ہو جاتا ہے۔ جیسا سوچا ہوتا ہے اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ اور اس بات
کا کئی لوگ آپ کو اعتراف کرتے نظر آئیں گے۔
مشک کی پہلی قسط اپنے کرداروں کا تعارف اور ہر کردار کی شاندار
اداکاری اور ایک نئی کہانی کے ساتھ حاضر ہوئی۔اس کے کچھ مکالموں نے محفل لوٹ لی۔
"ہو سکتا ہے آنے والا کوئی خاص ہو یا انتظار کرنے والے کا انتظار
طاقتور ہو۔‘‘
"قدر کرو، قدر نہ کرو تو رب چھین لیتا ہے چاہے عشق ہو یا رزق ہو۔"
"تیری کوئی ضد ہی انگلی پکڑ کر قید خانے میں لے آئی ہے."
"سانسیں گن کر دل بہلا لیتا ہوں.اور سانسوں کی گنتی سے گزرا ہوا وقت
ماپ لیتا ہوں."
"جا نادانی سے کھیل کود باری آئے گی تو سمجھ کو
بلانا نہیں پڑے گا خود ہی آ جائے گی."
" ٹھیک ہوں یا نہیں یہ تو نہیں جانتا۔۔۔بس اتنا جانتا ہوں کہ ابھی تک
ہوں۔"
"جب سے آپ سے ملا ہوں تب سے پڑھا لکھا نالائقی میں بدل گیا، صبر بے
سکونی میں اور سکون بےچینی میں۔ اور جب میں آپ کو دیکھتا ہوں تو بہت سکون ملتا ہے
اور دیکھتا چلا جاؤں تو صبر۔"
مشک
کی دوسری قسط میں بہت خوبصورتی کے ساتھ کہانی کو آگے بڑھایا گیا اس میں خصوصاً
عمران اشرف اور مومل کا پہلی دفعہ سامنا دیکھنے والوں کا دل لوٹ گیا۔
عمران اشرف کا’’ شکریہ ‘‘ کے جواب میں ’’وعلیکم السلام ‘‘ کہنا اور اس
سین پر ایک تو بارش اوپر سے او ایس ٹی۔۔۔ عشق گونگا رہئیا ۔۔۔ہنجو بولدا رئیا۔۔ہاں
جی بولدا رئیا۔۔۔ عمران اشرف کا چھتری کھول کے بند کرنے کا انداز اور چہرے کے
تاثرات ایک ایک چیز کمال تھی۔
دوسری قسط میں دکھایا گیا کہ ہم سب ہی کسی نہ کسی کے عشق کے قیدی ضرور
ہوتے ہیں کوئی کسی کے حسن کا کوئی دولت کا اور کوئی شہرت کا۔ شایان کا ارادہ مضبوط
تھا اس نے یہاں سے بھاگنے کا عزم بنایا تھا اور وہ بھاگ گیا۔ چاہے لوہے کی سلاخیں
ہی کیوں نہ ہوں مضبوط ارادے ان کو کاٹ دیتے ہیں۔
دوسری قسط میں احسن طالش کی اینٹری اور وہ بھی جلاد والے انداز میں، احسن
طالش کا بولا گیا ایک خوبصورت ڈائیلاگ۔
’’ تو خود نہیں سویا۔۔۔تجھے تیری موت نے تھپکی دے کے
سلایا ہے۔‘‘
دوسری
قسط نے بھی پہلی قسط کی طرح شروع سے آخر
تک اپنے ساتھ باندھا رکھا تھا۔
مشک کی تیسری
قسط میں کرداروں کی کہانی کو آگے بڑھانے کے ساتھ ان سے منسوب ماضی کے رازوں سے
پردہ اٹھایا گیا۔ مقدر خان اور شایان کی گفتگو نے شایان کا جرم واضح کیا اور مقدر
خان کا ظالمانہ انداز۔ اس کا پاسپورٹ پھاڑ کے اس کی پاکستان سے باہر جانے کی کوشش
کو ناکام بنا دیا (میں ایک کین ویور ہوں اس بات کا اندازہ آپ کو یہاں سے ہو جائے
گا کہ پھاڑا جانے والا پاسپورٹ نقلی تھا ہاہاہاہا )
دوسری قسط سے
امید جاگی تھی کہ تیسری قسط میں شایان اور مہک کی ملاقات ہو جائے گی لیکن کسی کو
بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ منزل کے قریب پہنچ کے یوں وہیں آ جائے گا جہاں سے
بھاگا تھا۔ زندگی بھی ہمارے ساتھ ایسے ہی کھیل کھیلتی ہے ہم منزل پر پہنچنے کے لیے
اپنی جان پر کھیل جاتے ہیں لیکن بعض اوقات منزل کے قریب پہنچ کے بھی خالی ہاتھ لوٹ
آتے ہیں۔ اس ڈرامے کا مقصد اور اس کی کہانی بہت گہرائی لیے ہوئے ہے۔
زارا کا حسن کے
ساتھ ایسے سخت رویے کی وجہ معلوم ہوئی اس کے علاوہ زارا اور عروہ کی آپس کی چپقلش
اور ڈی جی کی پنجابی سٹائل کی ایکٹنگ نے خوب رونق لگائی۔
رضا طالش، سحر خان
کے ساتھ کوئی گیم کھیلتا معلوم ہو رہا ہے۔ اس کے بلیک میل کرنے کا انداز یا تو عشق
نے سچ میں اس کے حواس کھو لیے ہیں یا یہ کوئی اور ہی کہانی ہے۔ اندازہ نہیں لگا
سکتی کیونکہ یہ عام ڈراموں سے ہٹ کے ہے اس میں آپ کے اندازے بہت خوبصورتی کے ساتھ
غلط ثابت ہو جاتے ہیں۔
اب دیکھتے ہیں
اگلی قسط میں ڈرامے کے کردار کیسی کروٹیں بدلتے ہیں۔
صباحت رفیق
(ناول رائٹر)
https://www.facebook.com/sabahat.rafique.official

Comments
Post a Comment